loader image

Latest News & Article

Post: جماعت اسلامی کے میئر کے خلاف عدم اعتماد لانے کا فیصلہ کیا ہے، سیف الدین ایڈووکیٹ

جماعت اسلامی کے میئر کے خلاف عدم اعتماد لانے کا فیصلہ کیا ہے، سیف الدین ایڈووکیٹ

اپوزیشن لیڈر کے ایم سیف الدین ایڈووکیٹ کی پریس کانفرنس: جماعت اسلامی کے میئر کے خلاف عدم اعتماد لانے کا فیصلہ کیا ہے، سیف الدین ایڈووکیٹ۔ عدم اعتماد کے لیے کام بھی شروع کر دیا گیا ہے، سیف الدین ایڈووکیٹ۔ اپنے اراکین سے دستخط شروع کر دئیے ہیں، سیف الدین ایڈووکیٹ۔ دیگر جماعتوں سے بھی رابطے کر رہے ہیں، سیف الدین ایڈووکیٹ۔ اراکین کونسل کا ردعمل مثبت ہے، سیف الدین ایڈووکیٹ۔ شہر کی بہتری موجودہ میئر کی موجودگی میں ممکن نہیں، سیف الدین ایڈووکیٹ۔ شہر کا ہر علاقہ بدترین بدانتظامی کا شکار ہے، سیف الدین ایڈووکیٹ۔ شہر کے تمام بڑے ادارے حکومت سندھ نے اپنے ماتحت کر لیے ہیں، سیف الدین ایڈووکیٹ۔ حکومت سندھ نے کے ایم سی، ٹاؤنز، یونین کونسلز کو بدترین بحران کا شکار کر دیا ہے، سیف الدین ایڈووکیٹ۔ جھاڑو کا نظام تک یونین کونسل کے پاس نہیں ہے، سیف الدین ایڈووکیٹ۔ گل پلازہ نے انتظامی نااہلی کی قلعی کھول دی ہے، سیف الدین ایڈووکیٹ۔ سول ڈیفنس کے محکمے کا کوئی کردار نظر نہیں آیا، سیف الدین ایڈووکیٹ۔ کمشنر، ڈپٹی کمشنرز ذمہ دار ہیں، سیف الدین ایڈووکیٹ۔ گل پلازہ واقعہ ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے، سیف الدین ایڈووکیٹ۔ ہمارے لوگوں کو ریسکیو کرنا ہی نہیں آتا، سیف الدین ایڈووکیٹ۔ حکومت سندھ سمیت کوئی محکمہ ایسا نظر نہیں آتا کہ وہ بہتری کرنا چاہتے ہیں، سیف الدین ایڈووکیٹ۔ کمشنر کی رپورٹ تھرڈ کلاس ہے، سیف الدین ایڈووکیٹ۔ رپورٹ میں صرف ایک صفحے کی سفارشات ہیں جس میں چار چار لائنیں لکھی ہیں، سیف الدین ایڈووکیٹ۔ بچے کے گٹر میں گرنے کے واقعے کو ڈھائی ماہ گزر گئے، کوئی تحقیقات نہیں ہوئیں، سیف الدین ایڈووکیٹ۔ جن ایکسین کو معطل کیا گیا وہ بحال ہو چکے ہیں، سیف الدین ایڈووکیٹ۔ یونین کونسل کو ایک لاکھ روپے دینا شرمناک ہے، اس میں کتنے ڈھکن لگیں گے، سیف الدین ایڈووکیٹ۔ میئر مرتضیٰ وہاب کا جانا انتہائی ضروری ہے، سیف الدین ایڈووکیٹ۔ پوری حکومت سندھ کا جانا بھی بہت ضروری ہے، سیف الدین ایڈووکیٹ۔ لوگ جھولیاں اٹھا کر ان کے جانے کی دعائیں کر رہے ہیں، سیف الدین ایڈووکیٹ۔ کبھی ایف آئی اے کبھی کوئی ادارہ چھاپے مار رہا ہے، یہ بھی میچ فکسنگ ہی لگتا ہے، سیف الدین ایڈووکیٹ۔ سترہ اٹھارہ سالوں سے آپ کی حکومت ہے، اس دوران ہزاروں ارب روپے کہاں گئے؟ کیوں خرچ نہیں کیا، سیف الدین ایڈووکیٹ۔ شہر کے پارک کیوں اجڑ گئے، سڑکیں کیوں تباہ ہیں، سیف الدین ایڈووکیٹ۔ 29 ہزار لوگوں کو کتوں نے کاٹ لیے، سیف الدین ایڈووکیٹ۔ سٹی وارڈنز میں آدھے بھی حاضر نہیں رہتے، سیف الدین ایڈووکیٹ۔ کے ایم سی میں 14 ہزار ملازمین ہیں، آدھے بھی اپنا کام ٹھیک نہیں کر رہے، سیف الدین ایڈووکیٹ۔

Share this post :

Facebook
Twitter
LinkedIn