پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ کی کراچی پریس کلب میں اہم پریس کانفرنس پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کراچی پریس کلب میں اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنان کو تھری ایم پی او کے تحت اغوا اور بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ پریس کانفرنس میں پی ٹی آئی کراچی کے صدر راجہ اظہر، سینیئر نائب صدر فہیم خان، پارلیمانی لیڈر شبیر قریشی، ایڈووکیٹ شجاعت علی خان، ایڈووکیٹ خان زمان، راؤ اعظم، ایڈووکیٹ جی ایم آزاد، یاسر بلوچ سمیت دیگر رہنما شریک تھے۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ وہ آج بڑے دکھی دل کے ساتھ عوام کی عدالت میں پیش ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے سرکاری ایم پی او کے تحت 431 شہریوں کو گرفتار کیا، جن میں سے 272 افراد سینٹرل اور ملیر جیل جبکہ سو سے زائد کارکنان تھانوں سے رہا کروائے گئے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کارکنان کو ہوٹلوں اور دکانوں سے اٹھایا گیا اور بعض مقامات پر پیسے لے کر شہریوں کو چھوڑا گیا۔ انہوں نے کہا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے پرامن ہڑتال کا اعلان کیا گیا تھا اور عوام سے گھروں میں رہنے کی اپیل کی گئی تھی، آٹھ فروری کو نہ کوئی زبردستی ہوئی اور نہ کوئی توڑ پھوڑ۔ ان کے مطابق عوام نے اپنے ووٹ پر ڈاکے کے خلاف خود ہڑتال کو کامیاب بنایا۔ حلیم عادل شیخ نے الزام لگایا کہ راجہ اظہر اور فہیم خان کو ڈی ایس پی خوشنود اور دیگر پولیس افسران نے کورنگی کے عوامی تھانے میں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے وکلا خان زمان اور جی ایم آزاد کے ساتھ بھی بدسلوکی کی گئی، موبائل فون چھینے گئے اور تشدد کر کے تھانے سے نکال دیا گیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایس ایس پی کورنگی فدا جانوری، ڈی ایس پی خوشنود اور دیگر اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ اگر سندھ حکومت میں ذرا سی بھی اخلاقی جمہوریت باقی ہے تو ملوث پولیس افسران کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔ اس موقع پر سینیئر نائب صدر کراچی فہیم خان نے کہا کہ انہیں نہ کسی احتجاج اور نہ ہی ریلی سے گرفتار کیا گیا بلکہ راستے میں روکا گیا، آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر بدترین تشدد کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے ساتھ ایسا سلوک کیا گیا جیسے وہ ریاست دشمن ہوں۔ پی ٹی آئی کراچی کے صدر راجہ اظہر نے کہا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کی ہڑتال میں کوئی زبردستی شامل نہیں تھی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پولیس نے انہیں بغیر وارنٹ گرفتار کر کے تشدد کیا۔ راجہ اظہر نے کہا کہ وہ انصاف کے لیے عدالت سے رجوع کریں گے اور پولیس افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ آخر میں پی ٹی آئی رہنماؤں نے واضح کیا کہ پاکستان تحریک انصاف ختم نہیں ہوئی، عوام نے آٹھ فروری کو اپنا فیصلہ سنا دیا ہے اور وہ قانونی جدوجہد جاری رکھیں گے۔


